Powered by Blogger.

Saturday, 2 February 2013

کتاب انسان کی بہترین دوست ہے۔



کتاب انسان کی بہترین دوست ہے 


یہ ایک آزمودہ مقولہ ہے جس کی صداقت سے انکار ممکن نہیں۔ ہوش سنبھالتے ہی انسان کو کتابوں سے سابقہ پڑتا ہے اور یہی کتابیں ہمیں زندگی کے نشیب و فراز، طرز، بودوباش، رہن سہن کے آدابِ زندگی، بلند پایہ مصنفین کے خیالات اور حکیمانہ باتیں ہم تک پہنچاتی ہیں۔ کتابیں تا دمِ حیات زندگی کی راہوں میں ہماری بہترین رفیق، معلم اور رہنما ثابت ہوتی ہیں اور ہمیں منزلِ مقصود تک پہنچنے میں مدد دیتی ہیں۔ 

کتب بینی کے فوائد اتنے کثیر ہیں کہ ہم ان کا شمار انگلیوں پر نہیں کرسکتے۔ کتابیں ہماری رفیق تنہائی ہی نہیں ہیں بلکہ ان میں بزرگوں کے تجربات و مشاہدات اور مسائلِ حیات پر ان افکار کا جو ذخیرہ ملتا ہے ان سے مستفید ہوکر ہم بہترین زندگی گزار سکتے ہیں۔ 

مطالعہ کتب سے نہ صرف، ہماری ذہنی نشونما ہوتی ہے بلکہ پریشانی کے عالم میں یہ ہماری دلچسپی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ ایک اچھی کتاب بہترین غذا بھی ہوتی ہے۔ کتابوں میں جو علوم کا خزانہ موجود ہوتا ہے وہ لازوال ہے۔ گردشِ روز گار پر اس کا کوئی اثرنہیں ہوتا یہ اپنے طلب گاروں اور شیدائیوں کی تشنگی دور کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتی ہے اور زندگی کے نشیب و فراز میں بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہب و ملت ہر انسان کے ساتھ رہتی ہے۔ کسی سے بے وفائی نہیں کرتی۔ دولت ِ دنیا چھن سکتی ہے مگر کتب بینی سے حاصل کیا ہوا علم چرایا نہیں جاسکتا۔ 

کتب بینی سے انسان کے اخلاق و کردار پر بڑا گہرا اثر پڑتا ہے۔ کتابیں انسانوں کو برائی کی ترغیب بھی دے سکتی ہیں۔ اس لئے مطالعہ کتب کےلئے بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ کتابیں چنتے وقت احتیاط کرنی چاہئے کہ ان کا موضوع تعمیری رحجانات کا حامل ہو۔ منحرف اخلاق اور فحش قسم کی کتابیں ہماری بدترین دشمن تو بن سکتی ہیں دوست نہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کتابیں بہترین دوست ہوتی ہیں تو ہماری مراد ان کتابوں سے ہے جس سے ہمارے کرار کی تعمیر میں مدد ملے۔ ہماری قومی اور ملی زندگی میں صحت مند رحجانات کو فروغ حاصل ہو۔ ہماری فلاح و بہبود اور ترقی و عروج کی راہیں ہموار ہوں۔ دل میں وطن اور اہلِ وطن کی محبت کا جذبہ ابھرے اور عالمگیرانسانیت، اخوت اور بھائی چارگی کا احساس پیدا ہو، عظمت آدم کی سربلندی حاصل ہو۔ 

اگر مطالعہ کتب سے یہ مقاصد حاصل ہوتے ہیں تو یقیناً: 
کتاب انسان کی بہترین دوست ہے

0 comments:

Post a Comment