Powered by Blogger.

Saturday, 2 February 2013

سمندر کے کنارے ایک شام


   سمندر کے کنارے ایک شام         

گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوچکی تھیں۔ میں نے پہلے ہی ہفتہ میں اسکول کا دیا ہوا گھر کا کام ختم کرلیا تھا۔ اس لئے اس طرف سے بے فکر اور مطمئن تھا۔ وقت کی کمی نہ تھی چنانچہ مجھے تفریح کی سوجھی اور میں نے چند دوستوں کے ساتھ ہاکس بے جانے کا پروگرام بنالیا۔ 

پکنک پر جانے سے ایک دن پہلے ہم بازار گئے اور وہاں سے کھانے پینے کی اشیاءخریدیں اور منی بس بھی کرائے پر لی اور آپس میں دیگر ذمہ داریاں تقسیم کرلیں۔ کسی نے کباب کا ذمہ لیا تو کسی نے کولڈ ڈرنگ کاذمہ اور کسی نے پراٹھے لے آنے کا۔ 

اب جب روانہ ہوئے تو صبح کے سات بجے کا وقت تھا۔ کوئی ڈیڑھ گھنٹے میں ہم لوگ ہاکس بے جاپہنچے۔ سب سے پہلے ہم نے ہٹ کرائے پر لیااور سامان وغیرہ رکھ کر تیراکی کے شوق میں پانی میں اتر گئے۔ گرمی عروج پر تھی اور ہم پسینے میں شرابور ہوگئے تھے۔ اس لئے تیرنے میںبڑا مزہ آیا۔ ہم اپنے گیند بھی لے گئے تھے اس لئے واٹر پولو کھیلنے میں بڑا مزا آیا۔۔ 

ایک بجے ہم سب ہٹ میں واپس آگئے۔ ہم تیر تیر کر خوب تھک چکے تھے۔ اس لئے بھوک کے مارے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ ہم نے سیر ہوکر کھایا اور کچھ دیر ریت پر لیٹ گئے اور گپ بازی کرنے لگے۔ چاربجے ہم نے چائے پی۔ پھر ہم سب کھیلنے اور سیپیاں جمع کرنے پانی کے قریب گئے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی، عزم اور لطف اندوز ہوائیں چل رہی تھےں۔ ہم میں سے چند نے پھر تیرنا شروع کردیا۔ غرض ان مشاغل میں دن ڈھل گیا اور موجیں زور زور سے اٹھنے لگیں۔ ایسا محسوس ہوا کہ پانی کی اونچی اونچی دیواریں یکے بعد ساحل کی طرف بڑھ رہی ہیں اور جیسے تماشائیوں کے ہجوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ 

دن بھر کا تھکا ماندا آفتاب افقِ مغرب کی اوٹ میں سرنگوں تھا۔ ہلکی ہلکی خنک ہوا طبیعت میں کسل مندی پیدا کررہی تھی اور آسمان کے کنارے شفق رنگین بڑے دیدہ زیب نظر آرہے تھے۔ دور تک سرخ دھاریں اس طرح پھیل گئی تھیں جیسے عروسِ شام رنگین آنچل سے ڈھلک گئی ہو۔ ہم کافی دیر سے غروبِ آفتاب کے اسی روح پرور نظاری سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ آخر شام کی سیاہی بڑھی اور ہم سارے دوست ہٹ میں واپس آگئے اور دسترخوان کے گرد بیٹھ گئے اور کھانے کی اشیاءپر ٹوٹ پڑے۔ 

ویگن پر سوارہوکر واپس گھر کی طرف روانہ ہوئے تو ساڑھے آٹھ بج چکے تھے۔ اپنے اپنے گھروں تک پہنچنے میں ہم بہت تھک چکے تھے۔ مگر اس میں ایک کیف و سرور کا احساس شامل تھا۔ ساحلِ سمندر پر گزری ہوئی یہ شام ہمارے لئے ایسے جلووں، ایسی دلآویزی و دلکشی اور سامانِ فرحت رکھتی ہے کہ اس کی یاد ہمیں کبھی نہیں بھولتی
۔


4 comments: